اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا، تشدد کے ذریعے نظریات مسلط کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، پاکستانی قوم، افواج پاکستان اور پورا معاشرہ دہشت گردوں اور دنیا کے درمیان مضبوط ڈھال ہے، ریاستی اداروں، وفاقی و صوبائی حکومتوں اور عوام کی مشترکہ کاوشوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کئے گئے، 2017 میں دہشت گردی کے خاتمے کے بعد ملک میں سرمایہ کاری شروع ہوئی تاہم بعد ازاں بدقسمتی سے پالیسی میں تبدیلی سے انسداد دہشت گردی کے لئے چار سال کی کاوشوں کو نقصان پہنچا، پالیسیوں کے تسلسل کے لئے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے ہونا چاہئے، دہشت گردی کے خاتمے کی جدوجہد میں بیانیہ کا کردار انتہائی اہم ہے، معرکہ حق کے دوران پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کر کے اصل جنگ سے پہلے ہی بیانیہ کی جنگ شروع کر دی تھی، پاکستان نے موثر انداز میں بھارتی الزامات کا جواب دیا، وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پہلگام واقعہ کی بین الاقوامی سطح پر شفاف تحقیقات کی پیشکش سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا، پاکستان کا مثبت تشخص دنیا بھر میں ابھرا ہے، اسے سفارتی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور پاکستان ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او)کے زیر اہتمام بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے اراکین پارلیمنٹ کے لیے انسداد دہشت گردی کے فریم ورک، قانون سازی سے متعلق ذمہ داریوں کے موضوع پر کیپیسٹی بلڈنگ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اطلاعاتی جنگ اور بیانیے کے محاذ پر یہ حقیقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ تاثر اکثر حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے،بطور انفارمیشن منیجرز یا نیریٹو بلڈرز ہمارا کام تاثر اور حقیقت کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا ہے۔عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ 2017 میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکا تھا، کراچی میں امن و امان کی صورتحال، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سرگرمیوں، بلوچستان کے بعض علاقوں میں دہشت گردی کی لہر اور جنوبی پنجاب سے وسطی پنجاب کی جانب بڑھتی ہوئی شدت پسندی جیسے چیلنجز کے پیش نظر اس وقت ریاست نے قومی ایکشن پلان لانے کا فیصلہ کیا جس پر تمام متعلقہ فریقین نے لبیک کہا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، افواج پاکستان اور دیگر اداروں نے مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کاوشیں کیں جس کے نتیجے میں دہشت گردی کا بڑی حد تک خاتمہ ممکن ہوا، دہشت گردی کے خلاف اس کامیاب جدوجہد میں موثر بیانیہ نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے فوری بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر اس واقعہ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے جانے لگے، یوں اصل جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی تاثر اور بیانیہ کی جنگ شروع ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست نے بھارتی الزامات کا بھرپور اور موثر انداز میں جواب دیتے ہوئے یہ سوالات اٹھائے کہ پہلگام واقعہ پیش آنے کے بعد محض آدھے گھنٹے کے اندر ایف آئی آر کیسے درج ہو گئی اور اگر بھارتی دعوے کے مطابق حملہ آور پاکستان سے آئے تھے تو لائن آف کنٹرول پہلگام سے تقریبا ڈیڑھ سو کلو میٹر دور ہونے اور درمیان میں دشوار گذار پہاڑی علاقہ موجود ہونے کے باوجود وہ اتنے کم وقت میں وہاں کیسے پہنچے جبکہ بھارتی سکیورٹی انہیں بروقت شناخت یا روکنے میں بھی ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی ایم اے کاکول میں خطاب کے دوران پہلگام واقعہ کی بین الاقوامی سطح پر شفاف تحقیقات کی پیشکش کی جس کے بعد بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا، اس کے پاس کوئی موثر جواب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کئی روز تک بیانہ کی جنگ جاری رہی اور انہوں نے بطور وزیر اطلاعات عالمی میڈیا کے مختلف اداروں جن میں سی این این ، بی بی سی، اسکائی نیوز، سی این بی سی، الجزیرہ اور العربیہ شامل ہیں، پر پاکستان کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا کے سامنے سوال اٹھایا گیا کہ جس قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہوں، وہ دہشت گردی کی حمایت کیسے کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان شہدا میں افواج پاکستان کے جوان، سپاہی اور افسران، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، سیاستدان، عام شہری، انجینئرز، ڈاکٹرز اور بچے شامل ہیں جبکہ سانحہ اے پی ایس میں بھی ہمارے معصوم بچوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک طرف پاکستان ایسی قوم ہے جس کے ہر طبقے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جبکہ دوسری طرف بھارت ہے جو خود دنیا کے مختلف ممالک میں اقلیتوں کو قتل کرانے میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے عروج کے دور میں پاکستان کے ہر دوسرے گھر میں قربانی کی ایک لازوال داستان موجود تھی، اس کے باوجود بھارت پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا ہے حالانکہ پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے بیرون ملک اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات دنیا کے سامنے ہیں، کینیڈا میں ایک سکھ شہری کے قتل میں بھی بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ چکے ہیں جبکہ مختلف ممالک میں بھارتی حکومت کی جانب سے اقلیتی برادری کے افراد کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بھارت پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا ہے جبکہ دوسری جانب خود بھارتی حکومت بیرون ملک اقلیتوں کے قتل میں ملوث رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا کے سامنے پاکستان نے حقائق اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر اپنا بیانیہ موثر انداز میں پیش کیا کہ جس ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہوں، اس کا موازنہ ایسے ملک سے نہیں کیا جا سکتا جو خود دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس اپنے موقف کے حق میں ٹھوس شواہد موجود ہیں جن میں بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھی شامل ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب یہ حقائق اور شواہد عالمی میڈیا کے سامنے رکھے گئے تو بھارت کے پاس ان کا کوئی موثر جواب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے بھارتی میڈیا اور وہاں کے بعض تجزیہ کاروں کے بیانیے کا جائزہ لیا جائے تو بھارت کی جانب سے اس صوبے کو مسلسل ہدف بنائے جانے کا رجحان واضح نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی اور بدامنی کی سرگرمیوں کی سرپرستی میں ملوث رہا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا بیانیہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اگر پاکستانی قوم اور افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ نہ لڑتیں تو یہ دہشت گرد دنیا کے مختلف ممالک میں گھوم پھر رہے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم، افواج پاکستان اور پورا پاکستانی معاشرہ دہشت گردوں اور باقی دنیا کے درمیان ایک مضبوط ڈھال ہے، اس لیے جب کوئی پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے ملک اور اپنے مقصد کے لیے قربانی نہیں دیتا بلکہ دنیا کو ایک محفوظ اور پرامن جگہ بنانے کے لیے بھی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے کے محاذ پر انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان نے ایک موثر جنگ لڑی، جس میں اللہ تعالی نے بڑی کامیابی عطا کی، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا موقف مضبوط ہوا اور دنیا نے پاکستانی بیانیے کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں وزارت اطلاعات و نشریات، آئی ایس پی آر اور پاکستانی میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران بھارتی میڈیا کی جانب سے لاہور اور ملتان کی بندرگاہوں کی تباہی سمیت متعدد بے بنیاد دعوے کیے گئے تاہم پاکستانی میڈیا نے ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق کو سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ قوم متحد تھی اور حقائق و اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان نے اپنا موقف دنیا کے سامنے پیش کیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے کامیابی عطا فرمائی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2017 میں دہشت گردی کے خاتمے کے بعد کراچی سے خیبر تک امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی اور ملک میں سرمایہ کاری کا عمل بھی شروع ہوا تاہم بدقسمتی سے بعد ازاں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے ہمدردی پیدا کی گئی اور انہیں دوبارہ آباد کرنے اور ان سے مذاکرات کی پالیسی اختیار کی گئی جس سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے چار سال تک جاری رہنے والی قومی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی میں اس تبدیلی کے فیصلے پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا حالانکہ قومی سلامتی اور دہشت گردی جیسے اہم معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں دہشت گردی کی جو صورتحال درپیش ہے، وہ 2017 کے بعد پالیسی میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ گزشتہ ڈھائی سے تین برس کے دوران قومی ایکشن پلان کے تحت متعدد ایریاز میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ دہشت گرد اب مشکل اہداف کی بجائے نسبتا سافٹ ٹارگٹس کا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کی طرز کا واقعہ پہلے کبھی رونما نہیں ہوا، ہماری سکیورٹی ایجنسیوں نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ریسکیو آپریشن مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی بنیادی وجہ پالیسی میں تبدیلی رہی جبکہ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ بیرونی مداخلت کے بغیر اس نوعیت کی سرگرمیاں ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے شعبے میں قوانین موجود ہیں جبکہ سائبر کرائمز سے نمٹنے کے لیے ایف آئی اے کے تحت قائم ونگ کو اب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کسی فرد کی جانب سے ایک پوسٹ بھی کسی دوسرے شخص کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے جبکہ انسداد دہشت گردی، خواتین کو ہراساں کرنے، بچوں سے بدسلوکی سے متعلق بھی سنگین مسائل درپیش ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل شعبے میں غلط معلومات اور گمراہ کن مواد معاشرے اور لوگوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے مثر قانونی ڈھانچے اور نظام کی ضرورت محسوس کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت بیانیہ تشکیل دینے کے عمل میں قانون کا نفاذ بھی ایک اہم عنصر ہے جس کے لیے قانون سازی، ضابطہ کاری اور ایسے نظام وضع کرنا شامل ہے جن کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے اور پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوں کی ذہن سازی کا موثر طور پر تدارک کیا جا سکے۔ انہوں نے ماہ رنگ بلوچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی وسائل اور حکومتی معاونت سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر بنیں، جس ریاست نے انہیں تعلیم مکمل کرنے اور معاشرے کا تعلیم یافتہ فرد بننے کے مواقع فراہم کیے، اس نے اسی ریاست کے خلاف مہم چلائی۔ وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ ماہ رنگ بلوچ کے دھرنے اور اسلام آباد آمد سمیت دیگر سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کہاں سے آتے ہیں اور ان سرگرمیوں کی مالی معاونت کون کرتا ہے؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، بلوچستان سے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس حوالے سے مستند شواہد میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کے لیے قانونی ڈھانچہ موجود ہے جس میں وقت کے تقاضوں کے مطابق مزید بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے کی جنگ میں وفاق اور تمام صوبوں کی مشترکہ شرکت ناگزیر ہے تاکہ ریاست مخالف پروپیگنڈے اور لوگوں کی ذہن سازی کی کوششوں کا موثر اور مربوط انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حوالے سے اقدامات جاری ہیں تاہم موجودہ نظام میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت موجودہ قانونی ڈھانچے کو مزید موثر بنانا اور تاثر سازی کے محاذ پر ریاست کا مثبت کردار مضبوط کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں صوبائی اسمبلیوں کا اہم کردار ہے جنہوں نے انسداد دہشت گردی اور ریاستی بیانیے کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے بھی ریاست مخالف پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور اپنا موقف موثر انداز میں پیش کرنے کے لیے قابل ذکر اقدامات کیے ہیں جہاں منفی پروپیگنڈے کے ذریعے مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت بھی اس ضمن میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے قواعد میں تبدیلی کے ذریعے جدید خطوط پر استوار نیا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل شعبے میں ابلاغ، میڈیا مانیٹرنگ اور قومی بیانیے کو موثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ فرینڈ شپ سینٹر میں قائم جدید ڈیجیٹل سیٹ اپ نے معرکہ حق کے دوران بھی موثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرکز میں مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر میڈیا مانیٹرنگ کا نظام موجود ہے جس کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والی اہم خبروں اور قابل توجہ امور کی نشاندہی کی جاتی ہے،مصنوعی ذہانت پر سپیچ ٹو ٹیکسٹ کی ٹیکنالوجی کے ذریعے الیکٹرانک میڈیا پر زیر بحث آنے والے اہم موضوعات کو خودکار انداز میں تحریری شکل میں منتقل کیا جاتا ہے جس سے میڈیا کے رجحانات اور اہم معاملات کی بروقت نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو بھی ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے قیام میں معاونت کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی صوبہ اپنا نظام خود تشکیل دینا چاہے تو حکومت اسے مطلوبہ ٹیکنالوجی اور ماہرین کی معاونت فراہم کرے گی تاکہ صوبے اپنی ضروریات کے مطابق یہ نظام خود تیار کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مختلف چھوٹے چھوٹے سوشل میڈیا سیلز تو کام کر رہے تھے تاہم وفاق اور صوبوں میں مربوط اور منظم ڈیجیٹل ڈھانچے کی کمی تھی جسے اب جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے دور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاکستان ٹی وی کے نام سے بھی ایک نیا ڈیجیٹل اقدام شروع کیا ہے جس کے تحت ثقافت، موسیقی، کھانوں، فنون اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں پر مواد تیار کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل شعبے میں پاکستان کے مثبت اور سافٹ امیج کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ آئندہ دو سے ڈھائی برس کے دوران ڈیجیٹل شعبے میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے، بین الصوبائی رابطہ، ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے مزید موثر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ دنیا کے سامنے پورے پاکستان کا مثبت اور جامع تشخص پیش کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں ٹی وی چینلز کے بیوروز کا قیام ضروری ہے کیونکہ بعض علاقوں میں صبح کی خبر رات گئے مرکز تک پہنچتی ہے جو ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینلز سے کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنی تجاویز پیش کریں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا سافٹ امیج پوری دنیا میں ابھرا ہے، سفارتی سطح پر پاکستان کو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور ملک ایک موثر ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے جسے عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات بیانیے کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید اجاگر کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے جبکہ پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پی آئی ڈی میں خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا، دہشت گرد کی نہ کوئی قومیت ہوتی ہے، نہ رنگ، نسل یا مذہب؛ اسے صرف تشدد کی زبان سمجھ آتی ہے اور وہ تشدد کے ذریعے اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت خداداد پاکستان کے لئے ہمارے بزرگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، ہجرت کی اور جان و مال کی قربانی دی، یہ ملک 27 رمضان المبارک کی شب معرض وجود میں آیا اور ان شا اللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ملنے والی عزت اور کامیابیاں اس بات کی نوید ہیں کہ ملک مزید ترقی کرے گا اور قوم اتحاد کے ساتھ اسے آگے لے کر جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی ہمیشہ حکومت کی ترجیحات میں شامل رہی ہے، بلوچستان کا فیڈریشن میں بڑا حصہ ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بلوچستان کے حقوق، ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے خصوصی احساس رکھتے ہیں اور بلوچستان کی ترقی کو پالیسی سازی میں اہمیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے این-25 شاہراہ کی تعمیر و بحالی کے اعلان کا پورے ملک نے خیرمقدم کیا اور کسی نے اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی۔ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک نے بلوچستان کے لیے اس اہم اقدام کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بلوچستان کے حوالے سے جذبات محض موجودہ دور تک محدود نہیں بلکہ طویل عرصے سے وہ صوبے کی ترقی اور حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور ہر اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں میں بلوچستان کے مفادات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب بلوچستان کے طلبہ اور جامعات کے لیے خصوصی کوٹے اور مواقع یقینی بنائے اور پنجاب کی ترقیاتی پالیسیوں میں بلوچستان کے طلبہ کے لیے مخصوص حصہ مختص کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے بھی انسداد دہشت گردی کے لیے بلوچستان حکومت کو 15 ارب روپے فراہم کیے جس پر بلوچستان حکومت نے اضافی فنڈز مختص کرنے پر پنجاب حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں بعض بنیادی اور قومی پالیسیوں کے تسلسل پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہونا چاہیے، الیکشن میں کوئی بھی جماعت کامیاب ہو، اچھی اور قومی مفاد کی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے ریسکیو 1122 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ چوہدری پرویز الہی سیاسی طور پر ہمارے مخالف ہیں تاہم ریسکیو 1122 ان کا ایک بہترین منصوبہ ہے اور اس کا کریڈٹ ہمیشہ انہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب ریسکیو 1122 کو مزید وسعت دی اور بعد ازاں اس کا دائرہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ تک پھیلایا گیا، یوں ایک صوبائی منصوبے کو قومی سطح کا منصوبہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی ایک اچھا منصوبہ ہے جو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے منسوب ہے اور مختلف حکومتوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اسے جاری رکھا۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جہاں آنے والی حکومتوں نے سیاسی اختلاف کے باوجود سابق حکومت کے اچھے منصوبوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسا سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت سابق حکومتوں کے اچھے منصوبوں اور قومی مفاد کی پالیسیوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب سیاسی رہنماﺅں کی ایک بڑی تعداد جیلوں میں تھی اور اپوزیشن کی صف اول کی قیادت موجود نہیں تھی، اس وقت بھی شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر قومی مفاد میں میثاق معیشت کی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر ملک کو ایسی پالیسیوں پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا جو حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جس طرح 2017 میں کراچی سے دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی گئی، اسی طرح کراچی کی ترقی کے لیے بھی تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
دہشت گردوں کا کوئی رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا، تشدد کے ذریعے نظریات مسلط کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، عطا اللہ تارڑ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل