غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے عسکری تنظیم حماس نے اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثوں اور ضامن ممالک کے وفود کے ساتھ ملاقات میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے روڈ میپ پر اتفاق ہوگیا ہے۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ مصر میں ہونے والی ملاقات میں جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں اور ضامن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں فریقین نے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت کے لیے لائحہ عمل طے کیا۔حماس نے ثالثوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں طے کی گئی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جائے۔حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں پر حملے فوری طور پر روکے جائیں اور اسرائیلی فوج کی فوجی کارروائیاں بند کی جائیں تاکہ جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے پر مؤثر انداز میں پیش رفت ممکن ہوسکے۔حماس نے واضح کیا کہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مرحلے میں کیے گئے وعدوں اور ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کیا جائے۔اس سے قبل امریکی نمائندے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے مصر میں حماس کے رہنما خلیل الحیا سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی اور معاہدے کے آئندہ مرحلے سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔حماس کے مطابق مصر میں ہونے والی حالیہ ملاقاتیں جنگ بندی معاہدے کو آگے بڑھانے اور دوسرے مرحلے کے لیے عملی اقدامات طے کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے تسلسل، فلسطینیوں کے خلاف حملوں کے خاتمے اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی روک تھام کے بغیر معاہدے کے اگلے مرحلے پر مؤثر پیش رفت مشکل ہوگی۔
دوسرے مرحلے کے روڈ میپ پر اتفاق کو غزہ میں جنگ بندی کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے. تاہم معاہدے پر عملی پیش رفت کا انحصار فریقین کی جانب سے طے شدہ ذمہ داریوں پر عمل درآمد پر ہوگا۔
غزہ جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ: حماس کا روڈ میپ پر اتفاق