امریکا سے معاہدہ طاقت کے ساتھ آگے بڑھا، دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا: ایرانی صدر

رواں برس 28فروری سے شروع ہونے والی ایران جنگ تاحال جنگ بندی کے مرحلے سے ہمکنار نہ ہوسکی. ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کا کہنا ہے کہ ہم نے امریکا سے حالیہ معاہدہ طاقت کے ساتھ آگے بڑھایا ہے، دشمن کے سامنے سر نہیں جھکایا۔
تفصیلات کے مطابق اپنے حالیہ بیان میں صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت وقار، خوداعتمادی اور طاقت کے ساتھ حاصل کی۔ ہم نے یادداشت کے اصول طے کرتے ہوئے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے تشکیل دئیے گئے اصول مدنظر رکھے تھے۔بیان میں صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے مابین حالیہ معاہدہ ایران کی طاقت کے ساتھ آگے بڑھا. ہم دشمنوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے نہیں۔ مفاہمتی یادداشت کی تیاری ماہرین کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے بعد عمل میں لائی گئی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے مابین مفاہمتی یادداشت پر 17 جون کو دستخط ہوئے تھے .جس میں طے کردہ 60روزہ مدت آج ختم ہورہی ہے۔ دونوں ممالک 2مہینے گزر جانے کے باوجود تاحال جنگ بندی کا کوئی واضح منصوبہ طے نہیں کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینا مذاق میں بھی ایک بڑی غلطی ہے کیونکہ یہ ایران ہے اور اس کے محافظ آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ امریکی افواج عملاً یہاں سے نکل چکیں اور اب انہیں آبنائے ہرمز میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں