کوئٹہ(این این آئی) جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر زیارت دھرنے کے ترجمان عبدالمتین اخونزادہ نے مطالبہ کیا ہے کہ زیارت دھرنے کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں زیارت واقعہ کی شفاف اور غیرجانبدار جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، زیارت اور گردونواح کے علاقوں کو دہشت گردوں اور قاتل عناصر سے پاک کیا جائے، لیویز فورس کو فوری طور پر بحال کیا جائے،ایف سی کوبے دخل اورچیک پوسٹوں پرمسافروں ،ٹرانسپورٹرزکی تذلیل بند کی جائے لواحقین سے کھلے عام، بامقصد اور بااختیار مذاکرات کرکے ان کے مطالبات منظور کیے جائیں جبکہ لیویزوپولیس فورس کو جدید اسلحہ، آلات اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داریاں مو¿ثر انداز میں ادا کر سکے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار کوئلہ پھاٹک میں زیارت واقعہ کے لواحقین کے عوامی احتجاجی دھرنے سے خطاب ومیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ذمہ داران، مقامی عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ جماعت اسلامی زیارت کے لواحقین کے دھرنے کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے تمام جائز مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ حکومت کی اولین ذمہ داری شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہےلیکن افسوس کہ آج بلوچستان کے عوام بدامنی، دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، لوٹ مار اور شاہراہوں پر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک، زیارت، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ژوب، لورالائی، ہرنائی، دکی اور دیگر علاقوں کے عوام مسلسل خوف و ہراس کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹرکوں کو نذر آتش کرنے، بے گناہ افراد کے اغوا، مسافروں کو نشانہ بنانے اور بڑھتی ہوئی لاقانونیت نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہےجبکہ حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کے نام پر ہر سال اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان وسائل کو حقیقی معنوں میں عوام کے تحفظ پر خرچ کیا جائے، سیکورٹی اداروں کے درمیان مو¿ثر رابطہ قائم کیا جائے، پولیس اور لیویز فورس کو جدید تربیت، اسلحہ، گاڑیاں، مواصلاتی نظام اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ دہشت گردی اور جرائم کا مو¿ثر مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام کو سیاسی نعروں،بے عمل اعلانات سے زیادہ امن،انصاف، روزگار اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت نے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو بدامنی مزید بڑھ سکتی ہےجس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔آخر میں عبدالمتین اخونزادہ نے مطالبہ کیا کہ زیارت واقعہ کے ذمہ داروں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور مناسب معاوضہ دیا جائے، عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اور مو¿ثر اقدامات کیے جائیں۔
زیارت دھرنے کے مطالبات واقعہ کی جوڈیشل انکوائری،قاتلوں کی گرفتاری اورلیویزفورس کی بحالی،ایف سی کوبے دخل کرنے،چیک پوسٹوں پرتذلیل بندکرناناگزیر ہے عبدالمتین اخونزادہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل