تہران /واشنگٹن /کویت سٹی/منامہ(این این آئی)امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر ایران کے مختلف ساحلی علاقوں پر حملوں کے نتیجے میں 17 افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی جبکہ ایرانی فورسز نے جلد خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر بڑے حملوں کا اعلان کردیاجس کے بعد ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کئے ۔جمعرات کو میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے کئے گئے حملوں کے بعد کہاگیاکہ ایران میں دھماکے آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس، سرک، کونارک اور چاہ بہار میں سنے گئے ہیں۔کیے گئے تازہ حملوں کے بارے میں امریکی فوج نے کہا کہ ان کا مقصد آبنائے ہرمز سے جہازوں کے آزادانہ گزرنے میں ایران کی جانب سے موجود خطرات کم کرنا ہے۔اس سے پہلے منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکا نے ایران کے جنوبی علاقوں پر حملے کیے تھے جن میں ایران نے مسلح افواج کے 8ارکان شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی فضائی اور بحری افواج کے یہ جوان بندر عباس اور بوشہر میں شہید ہوئے ہیں۔ ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور کے مطابق ایران پر 8 اور 9 جولائی کو ہونے والے امریکی حملوں میں 14 افراد شہید اور78 زخمی ہوئے۔ترجمان ایرانی وزارتِ صحت نے جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکا نے 2 روز کے دوران 5 صوبوں کو حملوں کا نشانہ بنایا۔بیان کے مطابق زخمی ہونے والے 78 افراد میں سے 47 اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دیگر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔بعد ازاں ایرانی پاسدارن انقلاب کی بحری فوج نے کہا کہ جمعرات کی صبح صوبہ خوزستان پر امریکی فضائی حملوں میں پاسدارن کے 3 اہلکار شہید ہوئے۔عرب میڈیا کے مطابق اپنے بیان میں ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری فوج نے کہا کہ ہرمز میں امریکی مہم جوئی یا جہاز رانی میں مداخلت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔بحری فوج ایرانی پاسدارن انقلاب نے کہا کہ غیر ملکیوں کو آبنائے ہرمز میں کوئی دلچسپی نہیں، امریکا کی فوجی مہم جوئی آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں رکاوٹ کی وجہ بنے گی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کے شہروں سریک، چاہ بہار، بندر عباس، کونارک اور جزیرہ ابو موسی میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ چاہ بہار کے کچھ حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق ایرانشر ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا، میری ٹائم ٹریفک کنٹرول ٹاور اور ایک ڈپو پر حملے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق چاہ بہار پر امریکی حملے میں پروجیکٹائل کا ٹکڑا امام علی ہسپتال پر گرا ہے۔صوبہ بوشہر میں بھی دھماکے سنے گئے، ایٹمی بجلی گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ دریںاثناءایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق بوشہر میں کئی زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔بوشہر وہ صوبہ ہے جہاں ایران کی واحد فعال جوہری تنصیب بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ واقع ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران بوشہر کی جوہری تنصیب پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے متعدد حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ممکنہ جوہری حادثے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا تھا۔میدیارپورٹ کے مطابق ایران کے صوبے گلستان میں چین ایران ریلوے کوریڈور کا ایک اہم ریلوے پل امریکی حملے میں نشانہ بن گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ رات عق تاقہ خان ریلوے پل پر امریکی حملہ کیا گیا۔ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق یہ ریلوے راستہ ترکمانستان اور قازقستان کے ذریعے چین کو ایران سے ملاتا ہے جبکہ روس 2025 کے آخر سے اس روٹ کو ایران کے لیے کارگو ترسیل کے لیے استعمال کر رہا تھا۔امریکی حملے کے باعث ریلوے لائن کے کچھ حصے متاثر ہونے کے بعد تہران سے مشہد جانے والی ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تازہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کر دیے۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق کیمپ عریفجان، علی السالم (کویت)اور جفیر، شیخ عیسی (بحرین)کے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جاری بیان میں خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے دوبارہ ہوئے تو خطے میں دیگر امریکی اڈوں پر بھی کارروائیاں کی جائیں گی۔ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی حملوں میں مشہد جانے والے 2 پل بھی نشانہ بنائے گئے، جنہیں ایران نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے جلوسِ جنازہ کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا۔دوسری جانب ایران نے جنوبی صوبوں پر امریکی حملوں اور مشرق میں 2 ریلوے پلوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے ان کو جنگی جرم قرار دے دیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ امریکی حملے اقوامِ متحدہ کے منشور اور مفاہمت کی یادداشت کے آرٹیکل 1 اور 5 کی کھلی خلاف ورزی ہیں، یہ حملے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد میں مسلسل ناکامی کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک بہانہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایران امریکا کو معاہدے کی خلاف ورزی، غنڈہ گردی، ایرانی قومی مفادات پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دے گا، ہم اپنی قومی خود مختاری، دفاع اور جارحیت کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے پرعزم ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے بیانات کو یورپی ممالک کی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں دانستہ شمولیت کا اعتراف قرار دیا ہے۔دوسری جانب ایرانی فورسز نے جلد خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر بڑے حملوں کا اعلان کردیا۔دوسری جانب کویت اور بحرین میں سائرن کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ کویت کے مطابق راکٹ اور ڈرون حملوں کے خلاف نظام متحرک ہے۔قطر میں موبائل فونز پر سیکیورٹی خطرے کی وارننگ کے بعد خطرہ ٹل جانے کے پیغامات جاری ہوئے ادھر اردن میں خطروں کے سائرن بجا دیے گئے، ایران سے آنے والے 8 میزائلوں کو مار گرایا گیا، کوئی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔اردن حکومت کے ترجمان ڈاکٹر محمد حسین المومنی نے کہا کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاعات کے بعد ملک بھر میں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔ان کے مطابق میزائلوں کو بروقت روک کر ناکارہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اردن کی مسلح افواج مکمل الرٹ ہیں اور مملکت کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں تاکہ ملکی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈاکٹر المومنی نے کہا کہ متعلقہ ادارے شہریوں اور رہائشیوں کو ضروری ہدایات اور معلومات فراہم کریں گے، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری معلومات پر اعتماد اور متعلقہ ہدایات پر عمل کریں۔ عوام سے جھوٹی خبروں کے پھیلا سے گریز کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ دریں اثناءامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں حملے کئے۔انہوں نے ایران کو وارننگ دی کہ اگر دوبارہ کوئی ایسی کارروائی ہوئی تو نتائج اس سے کہیں زیادہ برے ہوں گے۔اس سے پہلے ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کی دھمکی دی تھی تاہم ایران کے ساتھ مکمل جنگ شروع ہونے کا امکان مسترد کردیا تھا۔امریکی صدر کا کے مطابق انہیں نہیں لگتا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے جارہی ہے۔ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران سے جنگ بندی ختم ہوچکی ہے۔ امریکا ایران کے خارگ جزیرے پر بھی قبضہ کرسکتا ہے۔ امریکی حملوں کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اب تک یہ نہیں سیکھا کہ دھونس اور وعدہ خلافی کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر حملہ کرو گے تو جواب بھی ملے گا، بے مقصد ہاتھ پاں مارنے کے بجائے باز آ، ورنہ مزید گہرائی میں ڈوب جا گے۔محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف ایران کے انتظامات کے تحت کھلے گی، امریکی دھمکیوں سے نہیں۔ قبل ازیں امریکی نائب صدر وینس نے دھمکی دی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نیوز بریفنگ میں وینس نے کہا کہ امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایرانی ہرمز نہیں کھولتے اور جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتے۔انہوںنے کہاکہ بنیادی معاہدہ یہ تھا کہ اگر ایران جہازوں پر فائرنگ کرے گا تو امریکا بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کرے یا پھر وہی کچھ بھگتے جو گزشتہ رات ہوا۔
بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران پر حملے کیے، دوبارہ کوئی ایسی کارروائی ہوئی تو نتائج اس سے کہیں زیادہ برے ہوں گے،ٹرمپ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل